سیاسی، سماجی، ادبی، مزاح اور حکمت آمیز تحریریں

ہے جستجوکہ خوب سے ہےخوب ترکہاں
اب د یکھیے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں

Justuju Tv جستجو ٹی وی

انٹرنیشنل سیکیوریٹی نیٹ ورک - سوئٹزرلینڈ

Logo ISN

VerveEarth

Showing posts with label جستجو، محمد بن قاسم، Justuju. Show all posts
Showing posts with label جستجو، محمد بن قاسم، Justuju. Show all posts

Thursday, September 04, 2008

جستجو: حالات حاضرہ ---- بے وقت کی راگنی







جستجو / حالاتِ حاضرہ
بے وقت کی راگنی
محمد بن قاسم
مان لیجیے، شیخ جو دعویٰ کرے
اک بزرگِ دین کو ہم جھٹلائیں کیا
ہوچکے حالی غزل خوانی کے دن
راگنی بے وقت کی اب گائیں کیا
مولانا الطاف حسین حالی 1914-1837
موجودہ صورتِ حال میں، جب کہ پاکستان کے ایک حادثاتی رہنما، جناب آصف زرداری، صدر پاکستان کے عہدہ ءعالیہ پر براجمان ہونے جارہے ہیں، عقل دنگ ہے کہ یہ کیسا منظر نامہ ترتیب پا گیا ہے۔ تمام آزادانہ کام کرنے والے صحافتی ادارے ان کے اثاثہ جات کے بارے میں ہوش ربا، اور طلسمِ سامری جیسی رپورٹیں شائع کررہے ہیں۔ یہ امر روز روشن کی طرح یقینی ہے کہ اگر یہ تمام اثاثے ، جن کی مالیت ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، واقعی زرداری اور بھٹوخاندان کی میراث کے زمرہ میں ہیں، تو اس قدر بڑی رقمیں تو کسی بھی دیانت دار پاکستانی کی قسمت میں نہیں۔ خود ہمارے تازہ تازہ' سابق' ہوئے صدر صاحب پریشان ہیں کہ وہ کس طرح اپنی زندگی ٹھاٹ باٹ ، اور سیر وسفر میں گزاریں گے! وہ پاکستانی زرداروں میں ہری جن (خدا کے بچے) سے زیادہ نہیں لگتے۔ ہم اپنے کم عمر اور کم مطالعہ قارئین پریہ واضح کردیں کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں جو طبقاتی نظام ہے، اس میں برہمن سب سے اوپر، اور دلِت سب سے نچلے درجہ پر سمجھے جاتے ہیں۔ ہندوستانی رہنماآنجہانی موہن داس کرم چند گاندھی نے دلتوں کو "خدا کے بچوں" کا لقب دے دیا تھا، جو عیسائی تعلیمات سے زیادہ قریب، اور مغرب کے لیے زیادہ دل کش نعرہ ہے۔ یہ خدا کے بچے اپنی تمام ضرورتوں کے لیے خدا کے ہی محتاج ہیں، کیونکہ بھارتی متعصب معاشرہ ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھتا ہے۔ آپ یہ جان کر شاید حیران ہوں گے کہ حالیہ مون سون کے سیلابوں میں کی جانے والی امدادی کارروائیوں میں بھی یہی طبقاتی نظام کارفرما رہا، اور بے چارے مسکین ہری جنوں کی بستیوں کو امدادی کشتیاں اور سازوسامان فراہم نہیں کیا گیا، اور انہیں سیلابی موجوں کے تھپیڑے کھانے پر مجبور کردیا گیا۔
آپ میں سے جو دو چار ذہین قاری ہیں، وہ یقینا یہ سوال کریں گے کہ ہم نے بھارتی طبقاتی نظام کا موضوع کیوں چھیڑ دیا! تو پیارے دوستو، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اور آپ اس آزادی کا شکر ادا کریں جوہمیں ہندو بالا دستی سے فی الوقت نجات دلائے ہوئے ہے۔ اور وقتاْ فوقتاْ اپنے قومی آزادی کے سفر کی یادیں تازہ کرتے رہیں، اور ان عظیم رہنماﺅں کی زندگی کو اپنے کردار کے لیے ایک سانچہ بنانے کی کوشش کریں، جن کی ذہانت ، فراست، تدبر، اور رہنمائی کی بناءپر آج ہم ایک آزاد پاکستان کی فضاﺅں میں سانس لے سکتے ہیں۔ ورنہ خاکم بدہن، ہم اور آپ بھی 'خدا کے بچے' بنے ہوتے۔ اس امر کی نشاندہی کرنے کے لیے ہم اس لیے بھی بے چین تھے کہ گزشتہ دنوں، جب جناب آصف زرداری صاحب نے تمام پاکستانی دوردرشنوں کو ایک جیسا ہی انٹرویو دیا تھا، جن میں بہترین فٹنگ کے نئے نئے سوٹ البتہ مختلف تھے، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ ہم تو بات چیت پر ہی یقین رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح قائد اعظم نے پاکستان صرف بات چیت کے ذریعہ بنا لیا تھا۔ اگرچہ ان کا یہ جواب قائد اعظم کی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کررہا تھا، مگر اس سرسری سے بیان سے یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ انہیں تحریکِ پاکستان کے بارے میں مکمل اور ضروری تاریخی معلومات شاید حاصل نہیں، یا پھر وہ اسے بھول گئے تھے، کم ازکم اپنے انٹرویوز کے وقت۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز ہونے کے خواہشمند پاکستانی کے لیے یہ ایک مثالی صورتِ حال نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ جلد از جلد تحریکِ پاکستان کے بارے میں ایک 'حادثاتی کورس' کرلیں۔ تاکہ وہ سرسید احمد خان، علامہ اقبال، چوہدری رحمت علی، مولانا محمد علی جوہر، مولوی عبدالحق، قائد اعظم محمد علی جناح، نواب زادہ لیاقت علی خاں کی جدوجہد، اور مسلم لیگ کے قیام، اور دیگر تاریخی حقائق جان لیں، جن میں لاکھوں مسلمانوں کی بے لوث قربانیاں شامل ہیں۔ وہ مسلمان، جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ 1947 میں قائم ہونے والے پاکستان میں منتقل نہ ہوسکیں گے، صرف اسلام کے نام پر اپنی جانیں، مال وآن قربان کرگئے۔ یہ ان کا عطیہ کیا ہوا لہو ہی ہے، جو آج بھی پاکستان کی رگوں میں دوڑ رہا، اور اسے زندگی عطا کیے ہوئے ہے۔ اگر آج بھی قربانی اور خدمت کا وہی جذبہ ہو تو پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہواباوقار مقام پھر حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے نامی وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب نے بھی حال ہی میں اپنے ایک بیان میں یہ فرمایا ہے کہ اگر قائدِ اعظم بیک وقت مسلم لیگ کے صدر اور گورنر جنرل بھی ہوسکتے ہیں، تو جناب آصف زرداری بھی بیک بینی اور دو گوش اپنی سیاسی پارٹی کے چیف، اور صدرِ پاکستان کیوں نہیں ہوسکتے؟ ہمارا بھی وہی خیال ہے جو آپ کا ہوگا۔۔۔۔۔ کہاں قائد اعظم، اور کہاں ہمارے موجودہ رہنما۔ بہتر ہوگا کہ وہ اس قسم کے موازنے کرنے کی کوششیں نہ کیا کریں۔ تعلیم، عمل، کردار، امانت، دیانت، عمیق مطالعہ، قانون پر گرفت، مستقبل پر ایک صاف اور واضح نظر، یہ سب وہ صفات ہیں جن پر آج کا کوئی بھی پاکستانی لیڈر پورا نہیں اترتا۔ ایک مقبول امریکی ویب سائٹ ابائوٹ ڈاٹ کام پر ایک لبنانی عرب امریکی لکھاری پیرے ٹرسٹام نے ایک نہایت ہی پرمغز مقالہ پاکستان کی موجودہ صورتِ حال پر تحریر کیا ہے۔ وہ پاکستانیوں پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ساڑھے سولہ کروڑ کی آبادی میں سے ایک بھی صاف و شفاف رہنما اس قوم کو دست یاب نہ ہوسکا، اور پاکستانی صدارت بھی خورد برد کا شکار ہوگئی۔ ہمارا بھی خیال ہے کہ یہ بہتر ہوگا کہ تمام تینوں کے تینوں صدارتی امیدوار کھلے عام دور درشنوں پر آکر پاکستانی مسائل پر بحث و مباحثہ کریں، اور اپنے اپنے وژن اور منصوبہ بندی سے عوام کو آگاہ کریں۔ جب امریکی ایسا کرسکتے ہیں تو پاکستانی کیوں نہیں؟
رہنماﺅں کی بات کرتے ہوئے، یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ بلوچستان میں جب کچھ عرصہ قبل ایک ساتھ پانچ خواتین کو زخمی کرکے زندہ ہی دفنادیا گیا، تو یہ خبر کسی بھی پاکستانی صحافی یا اخبار نے نہ پائی۔ یہ تو ہانگ کانگ کے ایک انسانی حقوق کا ایک ادارہ تھا جس نے یہ وحشت ناک خبر تمام دنیا کو سنائی۔ پھر ہم بھی اسے راز میں نہ رکھ سکے۔ ان زخمو ں پر نمک چھڑکتے ہوئے ہمارے سینیٹ میں تخت نشین بلوچی رہنماﺅں نے جو ابتدائی بیانات دیئے وہ عذر گناہ، بد تر از گناہ ہیں۔ انسانی جانوں کی ان کے نزدیک کوئی قیمت ہی نہیں، اور اس پر احتجاج انہیں بہت برا لگ رہا ہے۔ مسلمانوں جیسے نام رکھنے والے ایسے اشخاص، قرآن الکریم کی سورہ ءنور کی ابتدائی آیات کا مطالعہ کرلیں، اور اپنے گریبانوں میں جھانک کر توبہ کریں، اور انصاف کی فراہمی کے لیے کام کریں تو ان کی عاقبت سدھر سکتی ہے۔ بہر حال، ایسے رہنماﺅں سے اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے، اس قسم کے ذہنی مریض افراد کی عدل کے ایوانوں میں موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح رہے گی۔ ہماری مذہبی جماعتوں کا اس معاملہ پر خاطر خواہ اقدامات نہ اٹھانا بڑا معنی خیز ہے۔ کراچی میں لاشوں کی سیاست کرنے والے ذرا بلوچستان میں بھی تو نمازِ جنازہ پڑھانے کی ہمت کریں۔
پیارے قارئین، اگر یہ تحریر آپ کو بے وقت کی راگنی محسوس ہورہی ہے تو اس میں آپ کا چنداں قصور نہیں۔ بین الاقوامی ریشہ دوانیوں کے سازوں کی آواز و جھنکار اس وقت اس قدر بلند ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ امریکہ اور برطانیہ نے اپنی مرضی کے پاکستانی رہنماﺅں کا انتخاب کیوں کیا، اور وہ ایسے کون سے کام ہیں جو محترمہ بے نظیربھٹوزرداری شہید، اور جناب سابق صدر سے نہیں نکلوائے جاسکتے تھے۔ غور کیجیے، اور سر دھنیے، اس کے سوا پاکستانی کر بھی کیا سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ 6 ستمبر 2008 بھی سنہ 1965 کی طرح ہی ایک یوم دفاع کا تقاضہ کررہا ہے۔ مگر اس مرتبہ دفاع پاکستان کی اخلاقی اور نظریاتی سرحدوں کا ہے، جن کے بغیر پاکستان کوئی ٹھوس حیثیت نہیں رکھتا۔
چلتے، چلتے، ہم جناب ظریف لکھنوی (انیسویں صدی عیسوی)کے چندمزے دار اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، جو صدارتی انتخابات کے موقع پر پاکستانی سیاست کے ایک مخصوص طبقہ کی لوٹا بازی اور مفاد پرستی کی دل چسپ عکاّسی کرتے ہیں:۔۔
ووٹ دوں گا عوض میں آپ کو خمسین *کے
اتنے ہی ملتے ہیں مجھ کو وعظ کے، تلقین کے
حضرتِ والا تو خود پابند ہیں آئین کے
اس سے کم لینا مرادف ہے مری توہین کے
ہاں یہ ممکن ہے کہ کچھ تقلیل فرمادیجیے
ہے یہ کارِ خیر، بس تعجیل فرمادیجیے

* خمسین = 50
٭
بدھ، 3 ستمبر 2008
(c) 2008 Justuju Media - All Rights Reserved
The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Media, hereby grant a permission for printing and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license

Thursday, August 21, 2008

جستجو: حالات حاضرہ ۔۔۔ معنی کی زبان









جستجو / حالاتِ حاضرہ

معنی کی زبان
محمد بن قاسم
eMail: justujumedia@gmail.com




معنی کا زبان نے گلا کاٹا ہے
حرفوں کی تجارت میں نرا گھاٹا ہے

افکار کے شہر میں ہے گہما گہمی
الفاظ کے میدان میں سنّاٹا ہے

اردو شاعری کی یہ بہت بڑی خصوصیت ہے کہ مختصر ترین لفظوں میں تہہ در تہہ معنی رکھنے والے موزوں جملے کہے جاسکتے ہیں، اور ان کی تشریح سمجھ دار سامعین اور قارئین اور نکتہ سنج خود ہی کرلیتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی (1898-1982)'' ''کے مندرجہ بالا قطعہ کے علاوہ، ذرا آپ اردو شاعری کا یہ شاندار ہیرا ملاحظہ فرمائیے، جسے جناب مومن خان مومن ''(1800-1851)'' نے ایسا تراشا کہ یہ اردو شعر و ادب کے جھومر کی ابدی زینت بن گیا:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

پیارے دوستو، پاکستانی سیاست دانوں نے بھی اپنی سیاسی شاعری کے مشاعرہ کا ایک میدان ِ کارزار گرم کر رکھا ہے۔ اس شاعری میں بھی اختصار و ایجاز، اور ذومعنی پن ایسا موجود ہے کہ عوام لاکھ اپنا سر پھوڑیں، کتنی ہی لغتیں دیکھیں، استادوں سے مشورہ کریں، یا جدید میڈیا پر حشرات الارض کی طرح نمودار ہوجانے والے نیم حکیم تجزیہ نگاروں کی الجھی الجھی تشریحات سنیں، گفتہ ءغالب کی طرح اس سیاسی شاعری سے محظوظ تو ہوتے رہیں گے، مگر اصل معنی سمجھنے میں دشواری پر وہ ہوٹنگ پر اترآئیں گے۔ آپ، پیارے سامعین ِ ءسیاسی مشاعرہ ،ہم سے متفق ہوں گے کہ یہ ہوٹنگ ، اور شور و غوغا آہستہ آہستہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ تمام تر جدید سیاسی شاعری بے معنی ہی ثابت ہورہی ہے۔ پاکستانی سیاسی شاعری کی لغت بڑی مختصر سی ہے، جس میں یہ اہم الفاظ اور محاورے درج ہیں:
” سیاست میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی (یعنی، جس حالت میں بھی اپنا فا ئدہ ہو، اسی پٹری پر چل پڑنا ہے)، ہم حکومت میں آکر عوام کے تمام مسائل حل کردیں گے ( نہ عوام رہیں گے، اور نہ ہی ان کے مسائل)، سابقہ حکومت نے ہر کام بگاڑ دیا (اور ہم کبھی بھی سابقہ ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، چاہے اس کے لیے جعلی الیکشن ہی کیوں نہ کرانا پڑیں)، ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ پلک جھپکتے تمام عوامی مسائل حل کردیں (آپ ہمیں ہمارے انتخابی وعدے نہ یاد دلائیں، ہم اپنے الیکشن کے اخراجات تو پورے کرلیں)، ہم جمہوریت کے علم بردار ہیں (جب تک یہ ہمارے خاندان تک محدود رہے)، پارلیمنٹ ہی سپریم پاور ہے ( مگر صرف اس وقت جب ہم اسے اشارہ کریں )“۔۔۔ وغیرہ ، وغیرہ۔ یہ ایک ایسا مرحلہ بہ مرحلہ بیانات کا سلسلہ ہوتا ہے، جسے آپ باآسانی شناخت کرسکتے ہیں، اور یہ جان سکتے ہیں کہ وہ کون سا مرحلہ ہے، جو اربابِ اقتدار کو ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر نکال پھینکتا ہے۔ عام طور پر یہ ”جمہوریت کے خلاف سازش‘ ‘ جیسے واویلا پر منتج ہوتاہے۔ اگر کوئی ایسی صورتِ حال رونما ہوتی ہے، جہاں کہ عام سیاسی کارکن اپنی اہمیت کا احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے، تو اقتدار کے نشہ میں چور لیڈران فرماتے ہیں:


محمود و ایاز ایک ہی صف میں تو کھڑے ہیں
لیکن نہ یہ بھولو کہ بڑے لوگ، بڑے ہیں
شمس زبیری

چنانچہ پیارے دوستو، فروری 2008 کے انتخابات کے نتیجہ میں برسر اقتدار آنے والے سیاسی، اور غیر سیاسی رہنما جو گنجلک زبان بول رہے ہیں، وہ عوام کے سروں پر سے گزر رہی ہے۔ ایک جانب تو وہ یہ کہتے ہیں کہ پارلیمان ہی عوامی طاقت کی نما ئندہ ہے، اور تمام فیصلے اب کسی آمر کے ڈنڈے کے زور پر نہیں، بلکہ پارلیمان کے اندر ہی کیے جائیں گے، اور تمام سیاسی قوتیں مل جل کر کام کریں گی، مگر دوسری جانب کئی سلگتے معاملات پر غیر نمائندہ اشخاص کی زیر صدارت بند کمروں میں ملاقاتیں ہو رہی ہیں، اور نشستند، گفتند، برخاستند سے آگے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ عوام روز ایک نیا خوش کن وعدہ سنتے اور پڑھتے ہیں، اور یہ ایسے وعدے ہیں کہ جو اس مرحلہ پر پہنچ رہے ہیں کہ ” ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔۔۔“۔ امین فہیم دبے لفظوں میں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میرے پاس ایسے سلگتے راز ہیں ، کہ جن سے پردہ اٹھادوں تو آگ لگ جائے۔۔۔۔۔ بقول شخصے، کچھ تو ہے ، جس کی پردہ داری ہے۔۔ چنانچہ جناب پرویز مشرف صاحب، سابق صدرِ پاکستان، ریٹا ئرڈ جنرل، تو یہ کہتے ہوئے گھر چلے گئے:


فقیرانہ آئے، صدا کرچلے
میاں خوش رہو، ہم دعا کرچلے
میر تقی میر

وہ جاتے جاتے صاف لفظوں میںبتا گئے کہ وہ زمیندار نہیں، ایک عام سے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، شایداسی لیے وہ کچھ سازشوں کا بخوبی مقابلہ نہ کرسکے۔ تاہم، اب آہستہ، آہستہ کچھ ایسے راز بھی سامنے آتے جارہے ہیں، جو پہلے پوشیدہ تھے۔ مثلا یہ الزام کہ وہ اپنے اقتدار کے آخری دنوں اپنے ہی منتخب کردہ چیف آف آرمی اسٹاف، جناب اشفاق کیانی ، صاحب کو ان کے اس منصب سے ہٹانے کی در پردہ کئی ایسی کوششیں کرچکے تھے، جو ناکام ہوئیں (ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بودا سا الزام ہے)، اور اسی لیے ایوان صدر کے محافظ 111 بریگیڈ میں تبدیلی کردی گئی تھی۔ اور یہ خبر کہ ایک اہم سعودی شہزادہ نے حال ہی میں آکر نئی حکومت کو صاف صاف بتادیا کہ اگر جناب صدر مشرف کو تنگ کیا گیا تو حال ہی میں اعلان کردہ 5 ارب ڈالر کی تیل کی مد میں امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے، دوسری جانب برطانیہ اور امریکہ بھی ڈھکے چھپے جناب صدرِ سابق کو مکافات عمل اور حالات کے جبر سے پناہ دینے کے معاملات پر کام کرتے رہے۔ پیارے دوستو، ہم تو یہ تجزیہ آپ کی خدمت میں پیش کرچکے تھے کہ جناب صدر کا مواخذہ کسی بھی قیمت پر نہ ہوگا (اور نہ ہی کوئی مقدمات چلائے جائیں گے)۔ چنانچہ، اپنی سیاسی تنہائی کا ادراک کرکے ملک و قوم کو مزید کسی بحران سے دوچار کیے بغیر وہ ان حالات میں ہر ممکن حد تک باعزت طریقہ سے ایوانِ صدر سے رخصت ہوگئے۔ پیارے قارئین، ان کے جانے پر پاکستان کے بڑے شہروں میں اپنی اپنی مقدور بھر، اور حسبِ ذوق خوشیاں، اور غم منائے گئے۔ اس روز ہم نے کراچی میں 100 کلومیٹر سے زیادہ سفر کیا، اورمقامی عوامی ردعمل بغور دیکھا۔ کراچی کے باشعور باسی عمومی طور پر اس ڈرامہ سے لاتعلق سے رہے۔ البتہ جن گروہوں کو اس موقع پر خوشی اور مسرت ملی، انہوں نے ضرور اس کا اظہار کیا۔ اس میں سب سے دل چسپ مظاہرہ کراچی کے پس ماندہ علاقہ اور جرائم کے گڑھ لیاری میں ہوا۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق رحمان ڈکیت گروپ نے کھلے عام متعدد گاڑیوں پر مشتمل ایک جلوس نکالا، اور لیاری اور کلفٹن میں بلاول ہا ﺅ س کے باہر خوب ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے غٹر غوں کرتے، اور یہ سب دم سادھے دیکھتے رہے۔ واضح رہے کہ آج کل حکومتِ سندھ نے ان ہنگامہ پرست گروہوں کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے، اور عوام نے کسی حد تک سکھ کا سانس بھی لیاتھا۔
جناب مشرف صاحب، سابق صدرِ پاکستان کے جانے کے بعد تمام خبریں تفصیل سے آپ تک پہنچ رہی ہیں، ان میں سے کئی بڑی حیران کن بھی ہیں۔ مثلا ، جناب سابق صدر کے زیر ِ تعمیر مکان کے آرکیٹیکٹ انجینئیر حماد صاحب بھی اب ان سے نہیں ڈرتے، اور ان کے مکان کے بارے میں ایسی نجی تفصیلات بھی سرِ عام بیان کررہے ہیں جو ان کی ذمہ داری اور ماہرانہ صلاحیتوں اور امانت کے منافی ہے۔ اسی طرح وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے بھی بلا دھڑک انٹرویو کیے جارہے اور نشر ہورہے ہیں۔ جناب سابق صدر کی سیکیوریٹی پر مامور افسران کو چاہیے کہ اس معاملہ کی تفتیش کریں، اور اس آرکی ٹیکٹ کے کان کھینچ کر اس کی فوری چھٹی کریں۔ دوسری جانب دنیا بھر کے تمام آزاد ممالک انہیں کھلی باہوں سے خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔ مگر وہ خود اپنے محبوب پاکستان کی مٹّی ہی میں رہنا بسنا، اور دفن ہونا چاہتے ہیں۔ جناب مشرف صاحب بھی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اب پاکستان کی حد تک تو ایک آزادانہ زندگی گزارنے کی کوشش میں خطرات سے گھرے رہیں گے، اورلال مسجد اور قبائلی علاقوں کے حالات ، واقعات، اور نتائج کے پس منظر میں ان کی اس وقت حیثیت کچھ ایسی ہی ہے جیسی کہ آن جہانی محترمہ اندرا گاندھی کی گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کے بعد تھی۔ اب جہاں تک ان کے مخالفین ، اور ہمارے ابھی تک نابالغ جدید میڈیا کا تعلق ہے، وہ ایسا پائیڈ پائپرPied Piper جیسا راگ الاپ رہا ہے جیسے کہ صدر کے ادارہ کی حیثیت سامری جادوگر جیسی ہے، اور ایک قابل اور نیا صدر تمام معاملات میں عوامی خواہشات کو پورا کردے گا۔ سادہ لوح عوام چینل در چینل اس قسم کی آراءکا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں کہ نیا صدر ایسا ہو جو مہنگائی ختم کردے، لاقانونیت ختم کردے، بے روزگاری ختم کردے، وغیرہ۔ ہمارے بے چارے لاعلم عوام یہ نہیں جانتے کہ پارلیمانی جمہوریت کے نظام میں، جیسا کہ ہمارے پاکستان میں رائج ہے، ایک صدر عوام کو کوئی سہولیات بہم نہیں پہنچاسکتا، اور وہ صرف ایک علامتی سربراہ ہی ہو ا کرتا ہے، اور جب تک پاکستانی آئین میں ”58(2)B “کی حالیہ شق موجود ہے، جب اس کا دل کچھ ’ختم‘ کرنے کا چاہے تو وہ صرف منتخب اسمبلیوں کو ہی ختم کرسکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر قومی سلامتی کونسل اور '' ''58(2) B ختم کردی گئی، تو 1970 سے 1990کی دہائیوں کی طرح جمہوریت کے نام پر ایک ایسی آمریت ابھر سکتی ہے جس کے شکنجہ سے نکلنا قوم کے لیے زندگی یا موت کی صورتِ حال میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ تمام قومی دانش وروں کو چاہیے کہ وہ ان خطرات سے ہمارے نئے نویلے راہنماﺅں کو آگاہ کریں، اور انہیں کھوکھلی پارلیمانی بالادستی کے نام پر ان سیفٹی والوز کو ختم کرنے سے باز رکھیں، اور اس بارے میں ایک باقاعدہ قومی تحریک چلائیں۔ ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات ایک ڈھونگ ہی ثابت ہوں، اور ایک مرتبہ پھرملکی یا غیر ملکی فوجی مداخلت ناگزیر ہوجائے اور ملکی سلامتی خدانخواستہ حقیقی خطرات میں پڑجائے۔
چلئے، اب میر تقی میر(1722-1810)'' ''کی وہ غزل سنئے، یا پڑھ ڈالیئے جو مشرف صاحب ، جناب سابق صدرِ پاکستان کے حالات و جذبات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے، اور اردو شاعری کے اس اعجاز کے بارے میں سر دُھنیے کہ لگ بھگ دو سو برس پہلے کہے گئے اشعار آج بھی کس قدر تازہ اور حسبِ حال ہیں:


فقیرانہ آئے صدا کرچلے
میاں ، خوش رہو ہم دعا کر چلے

جو تجھ بِن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے

وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپا کر چلے

بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کر چلے

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

نہ دیکھا غمِ دوستاں شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے

گئی عمر در بندِ فکرِ غزل
سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے، کیا کر چلے!

پیارے قارئین، پھر ملیں گے، گر خدا لایا۔ ہم آپ کے خطوط اور آراءکے منتظر رہیں گے۔ اس وقت آپ سب کا بھی خدا ہی حافظ۔

٭
بدھ، 20 اگست 2008
(c) 2008 Justuju Media - All Rights Reserved
The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Media, hereby grant a permission for printing and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license
Hashims آن لائن ہے Award Hashims کمائي Report Post Edit/Delete Message

Google Scholar