سیاسی، سماجی، ادبی، مزاح اور حکمت آمیز تحریریں

ہے جستجوکہ خوب سے ہےخوب ترکہاں
اب د یکھیے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں

Justuju Tv جستجو ٹی وی

انٹرنیشنل سیکیوریٹی نیٹ ورک - سوئٹزرلینڈ

Logo ISN

VerveEarth

Monday, February 18, 2008

پاکستانی انتخابات ۲۰۰۸ : نادرا کس مرض کی دوا ہے؟


پیارے پاکستانی بھائیو اور بہنو، میرے ہم وطنو، السلام علیکم

logo ecpہمیں یقین ہے کہ آپ آج صبح ہی سے تیاری کرکے، اپنا ووٹ ڈالنے گئے ہوں گے۔ اور اگر آپ خوش قسمت ہیں تو آپ کو اپنا نام بھی ووٹر لسٹ میں مل گیا ہوگا، اور مزید خوش قسمتی سے اگر آپ فیض یاب ہوسکے ہوں گے، تو آپ کے پولنگ اسٹیشن پر عملہ، اور بیلٹ بکس بھی موجود ہوں گے۔ تاہم، ہم جیسے بے شمار ووٹر کسی شمار و قطار میں نہیں ۔۔۔ شکریہ اے نادرا تیرا ۔۔۔۔ آئیے دیکھیں ایسا کیوں ہے ۔۔۔


ایک جاحرف وفا لکھا تھا، وہ بھی مٹ گیا

ظاہرا کاغذ تیرے خط کا غلط بردار ہے

(مرزا غالب)


ہم اور ہمارے تمام اہل خاندان، جملہ 14 افراد، صبح ہی صبح اپنے حکمرانوں کے انتخاب میں اپنا حصہ ڈالنے پہنچے۔ 14 میں سے صرف 2 ووٹوں کا اندراج مل سکا۔ دوسری جانب پولنگ آفیسرز بھاگ دوڑ کررہے تھے، مطلوبہ تعداد میں بیلٹ بکس موصول نہیں ہوئے تھے۔ اور ایم کیو ایم کے ایک امید وار، فیصل سبزواری، ووٹروں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اطراف میں موجود تھے، جب کہ اپوزیشن اور مخالف پارٹیوں کے امید واراس وقت غائب اور ان کا مددگار عملہ کم کم نظر آرہا تھا۔ ہم اپنا شناختی کارڈ لیے ایک کونہ سے دوسرے کونہ تک دوڑتے رہے، یہاں تک کہ 3 گھنٹے گزر گئے اور ہمارے صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا، اور ہمارا ووٹ نہ پڑ سکا۔ خواتین کے حصہ میں بین الاقوامی مبصرین میں ایک یورپی حسینہ، اور ایک خوش لباس مرد ساتھی متعلقہ کارکنوں سے بات چیت کررہے تھے۔ پردہ اور ٹیبل موجود نہ تھی، چنانچہ باذوق اور عملیت پسند نسائی ووٹر اپنا بیلٹ پیپر دیوار پر رکھ کر مہر کو ایک زوردار دھماکہ سے ثبت کرکے کھلے عام اپنا ووٹ استعمال کررہی تھیں۔

اس دوران پاکستان ٹیلی ویژن کراچی کے نمائندہ مطلوب سید بھی کیمرہ لیے آن پہنچے۔ ہم آگے بڑھے، اور ان کو اپنا شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ حکومتی چینل کی حیثیت سے وہ ہمارا احتجاج ریکارڈ کریں کہ ہمارا نام ووٹر لسٹ میں کیوں موجود نہیں۔ مگر انہوں نے اس شکایت کو ریکارڈ کرنے سے معذرت کرلی۔ ہمارے اصرار پروہ اپنا دفاع کرتے ہوئے کہنے لگے اس وقت میں مختلف مشن پر ہوں، اور آپ کا معاملہ اس وقت الیکشن سے تعلق نہیں رکھتا ۔۔۔ ان کے اس جواب پر ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، اور اپنا شناختی کارڈ واپس جیب کی حفاظت کے سپرد کردیا۔ اس تحریر کے دوران ہی ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ ہمارے فرشت صفت درویش صوفی، زندہ پیرانسانیت، جناب عبدالستار ایدھی کو بھی فہرست میں نام کے عدم اندراج کی بناء پرمتعلقہ پولنگ اسٹیشن میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔۔ اس کے پیش نظر ہماری کیا حیثیت ہے؟


Faisal Sabzwariاگر کسی ووٹر کا عدم اندراج الیکشن سے متعلق نہیں تو پھر اسے کیا نام دیا جائے۔ پی ٹی وی کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہتا ہے۔ آپ سوچیں گے کہ پی ٹی وی کا نمائندہ کس مشن پر تھا؟ اس نے جلدی جلدی چند منٹوں میں پولنگ بوتھ پر موجود پولیس اہل کاروں کی وڈیو بنائی کہ یہ دیکھیں پولنگ اسٹیشن پر مناسب سیکیوریٹی انتظام ہے۔ اور لائن میں لگے ہوئے کچھ افراد سے بات چیت کی کہ وہ کس عزم اور مقصد سے ووٹنگ کے لیے آئے ہیں۔ پی ٹی وی کا مقصد الیکشن نظام اور انتظامات کی کامیابی کو سامنے لانا تھا، اور ہماری شکایت اس معاملہ میں راہ کا بتھر ثابت ہورہی تھی۔

ہمارے عزیز ہم وطنو، اس سمع خراشی اور آپ کا اتنا وقت لینے کا مقصد یہ ہے، کہ ہم آپ کی توجہ اس اہم نکتہ کی جانب دلائیں کہ ووٹروں کی فہرست کے لئے حکومت پاکستان نے نیشنل ڈیٹابیس اتھارٹی، المعروف باسم "نادرا" صاحبہ، سے مدد کیوں نہ لی؟ اور آخر کیوں رجسٹرڈ پاکستانیوں کو صرف اس لیے ووٹنگ کے حق سے محروم کردیا کہ ان کے نام و پتے دستی اور روایتی رجسٹریشن کے طریقوں سے ریکارڈ ہونے سے رہ گئے؟

چنانچہ کیا حکام اعلیِ اور الیکشن کمیشن کے کرتا دھرتا اس بارے میں کوئی قابل قبول جواب دے سکتے ہیں ۔۔۔ آخر نادرا کے ریکارڈ کا فائدہ ہی کیا ہے اگر پاکستانی عوام اس کی مدد سے اپنےحکمرانوں کو منتخب نہیں کرسکتے۔ کیا یہ صرف خود کش بمباروں کی بعد از مرگ شناخت کی کوششوں کے لیے ہے۔ آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا ہم نے اپنے ووٹوں کے اندراج کے لیے کوئی مناسب اقدامات کیے تھے۔ ہم نے اپنے رجسٹریشن فارم بھر کر جمع کردیے تھے، اور اس کے بعد معاملہ کو نظام کے سپرد کردیا تھا۔ چنانچہ نظام نے اپنی مرضی سے ہی کام کیا، ہماری مرضی سے نہیں۔ ساتھ، ساتھ ہم نے مقامی سیاسی کارکنوں پر بھی بھروسہ کیا، جو مفید ثابت نہ ہوسکا۔ آخری تکیہ نادرا کا ریکارڈ اور ہمارا فخریہ شناختی کارڈ تھا، مگر جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے۔ اورلوٹ کر بدھو گھر کوآئے۔ چنانچہ ہمارے عزیز ہم وطن یہ جان لیں کہ ہم اپنی بریت کا اعلان کررہے ہیں کہ جو بھی پارٹی جیت کر اتھل پتھل کرے گی، اس کو گڑ بڑ کی اجازت ہم نے ہرگز نہیں دی۔ اور اگر اس نے اچھے کام کیےتو اس کا سہرا صرف اور صرف آپ کے اور ہمارے سر ہوگا۔ یہاں ایک تجویز اور نکتہ مزید ذہن میں ابھرتا ہے کہ ہم اورہماری طرح اور بے شمار پاکستانی جو اپنا ووٹ ڈالنے گئے اور فہرستوں میں نام نہ مل سکا، ان کے شناختی کارڈ کے نمبر تو کم از کم علیحدہ طور پر ریکارڈ کرلیے جاتے، تاکہ نہ صرف یہ اعداد و شمار جمع ہوسکتے بلکہ اسی وقت ان کے ووٹوں کا آئندہ کے لیے اندراج بھی ہوجاتا۔

کیا خیال ہے آپ کا؟


No comments:

Google Scholar